WHATSAPP PAGE

*واٹساپ كى مثال*


از: محمد اكرم ندوى
آكسفورڈ

 واٹساپ كى مثال شاهراه عام كى هے، جس طرح شاهراه عام پر نيكـ وبد، مسلمان وكافر، مؤمن ومشركـ، صالح وفاسق، اور دوست ودشمن هر طرح كے لوگ چلتے هين، اسى طرح واٹساپ پر اچهى برى، مفيد ومضر، متعلق وغير متعلق، علمى وغير علمى هر قسم كى تحريرين آتى هين.
 شاهراه عام پر اچهے لوگ آپ كو مل جائين تو انهين سلام كرتے هين، اور اگر آپ كے پاس وقت هو تو ان سے استفاده كرتے هين، اسى طرح واٹساپ پر اچهى تحريرين نظر آئين تو ان كى قدر دانى كرين، اور اگر وقت هو تو ان سے فائده اٹهائين، لكهنے والون كا شكريه ادا كرين، اور دوسرون كو بهى ان سے مستفيد فرمائين.
 اگر شاهراه عام پر غير متعلق انسان مل جائے تو ناگوارى كا اظهار كئے بغير آپ گزر جاتے هين، اسى طرح واٹساپ پر اگر كوئى غير متعلق تحرير ديكهين تو ناگوارى كے اظهار كى ضرورت نهين، بلكه يه سوچكر كه شايد كسى اور كے لئے وه تحرير سود مند هو، يا كم از كم اسے غير متعلق سمجهكر چشم پوشى كرلين.
 شاهراه عام پر كوئى غلط يا برى چيز هو، تو آپ شريف انسانون كى طرح نظر انداز كركے آگے بڑهـ جاتے هين (وإذا مروا باللغو مروا كراما) اور اگر آپ كو قدرت حاصل هو تو امر بالمعروف اور نهى عن المنكر كا فريضه خوش اسلوبى، حكمت اور دانائى كے ساتهـ انجام ديتے هين، اسى طرح واٹساپ پر اگر كوئى قابل اعتراض تحرير نظر آئے تو اسے نظر انداز كرين، اور اگر آپ كے اندر صلاحيت هے تو اس پر مثبت، تعميرى اور عالمانه تنقيد كرين.
 عالمانه تنقيد وه هے جس مين طعن وتشنيع اور تمسخر واستهزاء كے بجائے خير خواهى كا جذبه هو، جس مين كسى كى نيت پر بلا وجه حمله نه هو، اور جس مين مقدمات ونتائج كے درميان عقلى ربط هو.
 غير علمى تنقيد غيبت اور ايذا رسانى كے زمرے مين آتى هے، جس كا اصل نقصان خود تنقيد نگار كو هوتا هے، وه خدا اور اس كے بندون كى نگاه مين گر جاتا هے، اس كى نيكيان دوسرون كے حصے مين آتى هين، اور دوسرون كى برائيان اس پر لاد دى جاتى هين، اور اس كا معاشرتى نقصان يه هوتا هے كه تعلقات خراب هوتے هين، ايكـ دوسرے سے بد گمانى پيدا هوتى هے، حسد ونفرت كے جذبات پيدا هوتے هين، اور بات كهلم كهلا دشمنى تكـ پهنچ جاتى هے.
 اپنے اندر صبر اور تحمل مزاجى پيدا كرين، اور شرافت وتهذيب كا دامن كبهى نه چهوڑين، بلكه كوشش كرين كه اخلاقى قدرين آپ كے اندر روز بروز ترقى كرتى رهين.
 واٹساپ كے ممبران كى مثال ايكـ خاندان كے افراد كى هے، جن كے تعلقات كى بنياد باهمى محبت اور احترام پر هے، بات بات پر گروپ سے نكل جانا، يا نكلنے كى دهمكى دينا جذبات سے مغلوب هونے اور عقل كى كمزورى كى علامت هے.
 الله تعالى هم سب كو روا دارى، شائستگى، بردبارى اور دوسرے محاسن ومكارم كو فروغ دينے كى توفيق عطا فرمائے.
اللہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین







🍁copied & paste
 

       *اب عمر کی نقدی ختم ہوئی*

       تحریر :شرافت ناز


جمیل الدین عالی اخبار جنگ میں کالم لکھا کرتے تھے نقار خانے میں. 

ایک دفعہ ابنِ انشاء کا ایک واقعہ لکھا جو میں آپ کی نزر کرتا ہوں.
انشاء جی کے آخری ایام میں کینسر کے مرض کے سلسلے میں ان کے ساتھ راولپنڈی کے CMH میں گیا تو انہیں وہاں داخل کر لیا اور ٹیسٹوں کے بعد ہمیں بتایا کہ کینسر پھیل گیا ہے اور تھوڑے دن کی بات رھ گئی ہے کیوں کہ علاج کافی وقت سے چل رہا تھا ہم کئی بار یہاں آچکے تھے.
شام کے وقت ہم دونوں ہسپتال کے اپنے کمرے میں باتیں کر رہے تھے کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک بہت خوبصورت تیس سالہ عورت ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے کھڑی مُسکرا رہی تھی میں اُسے کمرے میں لے آیا. 
محترمہ نے گلدستہ انشاء جی کے ہاتھ میں دیا اور رونا شروع کر دیا اور کہا کہ انشاء جی میں آپ کی فین ہوں اور آپ میرے آئیڈیل ہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کا کینسر پھیل گیا ہے اور آخری اسٹیج پر ہے.
میں اللّٰہ سے دُعا کرتی ہوں کہ وہ میری زندگی کے پانچ سال آپ کو دے دے.
میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں میں اپنی ساری زندگی آپ کو دے دیتی لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں جن کو مجھے پالنا ہے میں پھر بھی سچے دل سے پانچ سال آپ کو دے رہی ہوں. 
انشاء جی اُس کی اس بات پر زور سے ہنسے اور کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں ٹھیک ہوں.
خاتون تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد چلی گئی.
تھوڑی دیر بعد انشاء جی رونے لگے اور کہا کہ دیکھو جمیل الدین یہ میری فین ہے اور دو بچوں کی ماں بھی ہے اور مجھے اپنی زندگی کے پانچ سال دینا چاہتی ہے اس کو کیا پتہ کہ ایک دن بھی کتنا قیمتی ہوتا ہے میرا تو وقت آ گیا ہے اللّٰہ اسے اپنے بچوں میں خوش وخرم رکھے. میں اُس رات انشاء کے ساتھ ہسپتال میں رہا اور اگلے  روز میں نے دو دن کی اجازت لی کہ میں اپنے عزیزوں سے مل آؤں جو کہ پنڈی میں رہتے تھے.  
میں دو روز بعد واپس آیا تو انشاء نے مجھے اپنی تازہ نظم 
" *اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے*" رو رو کر سنائی جس میں اُس خاتون کے پانچ سالوں کا ذکر بھی کیا. 
اردو ادب میں یہ نظم مجھے بہت پسند ہے میری آپ دوستوں سے گزارش ہے کہ آپ کم از کم  اس نظم کو ضرور پڑھنا. 
میں خود اس نظم کو بار بار گنگناتا رہتا ہوں بہت کمال اور شاہکار ہے.

انشاء جی پچاس سال کی عمر میں اللّٰہ کو پیارے ہو گئے تھے اُن کے لئے اور جمیل الدین عالی کے لئے دعا کی درخواست ہے. 

     تحریر: شرافت ناز
 
*ابن انشاء* 

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی 
اب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو

ہاں اپنی جا ں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے

کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟

جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے

کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں

ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس
دس پانچ برس دو چار برس

ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے
ہاں اور خرا ج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے

تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں ا س مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو؟ کچھ لاتی ہو

یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے

گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو

اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں

یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں

ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ا ن سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس؟
کیا عمر ا پنی کے پانچ برس؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو؟

جب عمر کا آ خر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے

جینے کی ہوس نرالی ہے
ہے کون جو ا س سے خالی ہے

کیا موت سے پہلے مرنا ہے؟
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا ہے
کیا سود بیاج کا لالچ ہے؟

کسی اور خراج کا لالچ ہے؟
تم سوہنی ہو، من موہنی ہو؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس

سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے؟ کیا ہے؟ کیسی ہے؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے

جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے

جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو ا پنے جی میں ا تار لیا
لو ہم نے تم سے ادھار لیا"

🍁

کوئی تبصرے نہیں: